You are here: Home / Brief History

خانقاہ عمادیہ قلندریہ کی مختصر اور اجمالی تاریخ

ہندستان اور بالخصوص صوبہ بہار میں کئی خانقاہیں موجود ہیں۔ان خانقاہوں میں خانقاہ عمادیہ قلندریہ، منگل تلاب پٹنہ ایک امتیازی شان کے ساتھ سالہا سال سے رشد و ہدایت اور خدمت خلق کا کام انجام دیتی چلی آرہی ہے ۔ بعض وجوہ کی بنا پر یہ خانقاہ اپنے اندر ایک طرۂ امتیاز رکھتی ہے۔

محبوب رب العالمین حضرت خواجہ عمادالدین قلندر جنہیں بادشاہ کا خطاب اپنے پیر و مرشد کی طرف سے عطا ہوا تھا ، کی اس خانقاہ میں اب تک علما،فضلا ،شعرا ، اور ادبا ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت اس خانقاہ کے دسویں سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شاہ مصباح الحق عمادی مد ظلہ مسند رشد و ہدایت پر متمکن ہیں۔ یہاں کے تمام سجادگان نے خانقاہ کے مقصد کو ہمیشہ فوقیت دی جہاں اسلام اور شریعت کی تبلیغ فرمائی وہیں انسانیت کی خدمت اور قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق پر بڑا کام کیا۔ قومی یکجہتی، عمومی فلاح اور نصیحت سے متعلق ان کے اشعار اپنی مثال آپ رکھتے ہیں۔

حضرت خواجہ عمادالدین قلندر بادشاہ نے روحانی تعلیم و تربیت قصبہ سادھور ہریانہ کے حضرت فاضل قلندر سادھوری سے حاصل کی اور پھلواری شریف میں جو تقریباً دو سو سال سے ان کا آبائی وطن چلا آرہا تھا ۔ ۱۱۰۴ھ میں وہاں لوٹ کر آئے ، رشد و ہدایت اور روحانیت کی اشاعت کا کام شروع کیا۔ ان کے والد حضرت برہان الدین قادری نے اپنے سلسلہ یعنی جنیدیہ کی اجازت و خلافت دے کر تمام علوم و معارف جو ان تک پہنچے تھے عطا فرما دیے اور اپنی خانقاہ کی تمام ذمہ داری ان کے سپرد کر کے خود گوشہ نشیں ہو گئے۔

حضرت خواجہ قلندر نے جہاں اسلامی تعلیمات کی طرف توجہ کی وہیں اصلاح معاشرہ کی طرف خاص دھیان بھی دیا، اس لیے ایک رسالہ "صراط مستقیم" عورتوں کی اصلاح کے مقصد سے اُس وقت کی مروجہ اردو زبان میں لکھا ۔ اس رسالہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ صوبہ بہار میں وہ اردو کی پہلی تصنیف ہے۔ کتابوں سے حضرت کو بہت شوق تھا اپنے والد کی لائبریری جو انہیں ورثہ میں ملی تھی اس میں اضافہ کرتے رہے یہ لائبریری آج بھی موجود ہے جو خانقاہ عمادیہ کے سجادگان ذاتی ملکیت ہے ۔ اور سلسلہ بسلسلہ منتقل ہوتی چلی آرہی ہے اور آج بھی موجودہ سجاد ہ نشیں اس کے مالک ہیں ۔ اس میں تقریباً سات سو مخطوطات ہیں اور زیادہ تر بزرگوں کے ہاتھوں کی لکھی کتابیں ہیں۔ سلسلہ عمادیہ کے بزرگانِ دین کی تصنیف و تحریر کردہ کتابوں کے ساتھ ساتھ دیگر خانوادوں کے بزرگان کے ہاتھوں کی لکھی کتابیں بھی موجود ہیں۔

حضرت قلندر نے پھلواری شریف واپس ہونے کے بعد والد کی جگہ پر درس و تدریس کا کام بھی شروع کیا۔ وہ مدرسہ آج بھی آپ کی خانقاہ میں "دار العلوم عمادیہ" کے نام سے چل رہا ہے، تشنگان علم دور دور سے آکر پیاس بجھاتے ہیں ۔ یہ مدرسہ خانقاہ عمادیہ کی ہی عمارت میں چل رہا ہے طلبا کی مکمل کفالت مدرسہ کے ذمہ ہے ۔ جسے خانقاہ اور مدرسہ کی انتظامیہ موجودہ سجادہ نشیں کی سرپرستی میں بحسن وخوبی انجام دیتی ہے۔

حضرت خواجہ عمادالدین قلندر کے سب سے پہلے شاگرد اور عزیز از جان مرید حضرت تاج العارفین پیر مجیب اللہ رحمۃاللہ علیہ ہوئے۔ جب سنہ ۱۱۲۴ھ میں حضرت خواجہ قلندر کا وصال ہوگیا تو ان کے صاحبزادے حضرت شاہ غلام نقشبند سجاد والد کے جانشیں بنائے گئے یہ اردو کے اچھے شاعر روحانیت میں درجہ کمال کو پہنچے ہوئے اور تقوی و پرہیزگاری میں بے مثال تھے ۔ ان کا شعر ملاحظہ ہو:

لحد پر جو سبزے ہیں ان کو نہ ٹونگو
مرے دوست ہیں یہ مرے رازداں ہیں

حضرت تاج العارفین کی دوصاحبزادیوں کی یکے بعد دیگر شادی حضرت سجاد سے ہوئی حضرت سجاد کو کوئی اولاد نرینہ نہ تھی صرف دو بیٹیان تھیں جن میں ایک کی شادی تاج العارفین کے بڑے پوتے حضرت نورالحق طپاںؔ ابن حضرت عبد الحق سے ہوئی۔ اور جب سنہ ۱۱۷۳ھ میں حضرت سجادؔ کا وصال ہو گیا تو یہی دامادیعنی محی السالکین حضرت شاہ نورالحق طپاںؔ ان کے بعد سجادہ عمادیہ پر بٹھائے گئے ۔

حضرت طپاں فارسی کے صاحب دیوان شاعر تھے ۔ چار جلدوں پر مشتمل آپ کا دیوان کتب خانہ عمادیہ میں محفوظ ہے۔ فارسی کے علاوہ اردو میں بھی آپ کے کلام کی اچھی تعداد ملتی ہے۔ مراثی اور قصائد بھی کہے ہیں۔ ایک اردو غزل کے تین اشعار ملاحظہ کیجئے اور فکر کی بلندی کا انداز لگائیں :

تمنا تھی کے ہر دم تیری صورت دیکھتے رہتے
تو ہوتا سامنے ہم تا قیامت دیکھتے رہتے
کیا سجدے میں لاکر کس نے ہم کو کشتۂ حیرت
جو ہوتے بت کدے میں حق کی قدرت دیکھتے رہتے
طپاںؔ ہم خود نہ ہوتے بیچ اور ان کی آنکھوں کے
لگائے ٹکٹکی وہ پیاری صورت دیکھتے رہتے

مندرجہ با لا اشعار میں جہاں فکری بلندیاں دکھائی دیتی ہیں وہیں مذہبی وقومی یکجہتی کا بہتریں تصور پیش کرتے ہیں۔

حضرت طپاںؔ ابھی سجادۂ عمادیہ پر متمکن تھے ہی کہ ان کے دادا تاج العارفین نے ۱۱۹۱ھ میں وصال فرمایا تو بعض حاسدین نے خانقاہ عمادیہ اور اس کو سجادہ نشیں کی مخالفت کھلم کھلا شروع کردی یہاں تک کہ جانی و مالی نقصان پہنچا نے کے درپے ہوئے ۔ اس وقت حضرت طپاں ضعیف ہو چکے تھے صحت اچھی نہ رہتی تھی تو آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت مولانا سید شاہ ظہورالحق کو ۱۲۱۱ھ میں اپنا جانشیں بنا کر سجادۂ عمادیہ پر متمکن فرمایا اورخود گوشہ نشیں ہو گئے ۔ اس پر مخالفوں کو اور زیادہ مواقع حاصل ہوگئے کہ اب تو حضرت ظہور بھی باہر کم نکلتے معمولات سجادہ نشیں چونکہ زیادہ ہوتے ہیں اس لئے مصروفیت کی زیادتی ہو گئی ۔ دسری طرف حضرت طپانؔ کے چچا حضرت شاہ نعمت اللہ قدس سرہٗ بھی سجادۂ مجیبیہ پر متمکن اور خلوت نشیں تھے۔ خانوادۂ عماد و مجیب کے خلاف جو ریشہ دوانیاں پڑھتی جارہی تھیں ۔ پھر نوبت یہا ں تک پہنچی کہ حضرت ظہور اپنے بوڑھے والد اور اہل و عیال کے ساتھ انتہائی عجلت میں پھلواری شریف سے ہجرت کر گئے ، وہاں سے موئے مبارک حضور اکرم ﷺ اور بزرگوں کے تبرکات کے علاوہ قیمتی کتابیں ہی ساتھ لے سکے، شب میں پھلواری شریف سے نکلے اور علی الصباح عظیم آباد (پٹنہ سیٹی) پہنچے۔ حضرت ظہور نے اپنے دادا تاج العارفین کے مرید و خلیفہ شاہ عنبر رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں قیام فرمایا۔ حضرت شاہ عنبرکی مسجد، حجرہ اور مزار آج بھی محلّہ جھاؤ گنج پٹنہ سیٹی میں موجود ہے۔

پٹنہ سیٹی آنے کے دسرے دن جب حضرت ظہورؔ رحمتہ اللہ علیہ پھلواری شریف سے بقیہ سامان لانے کے لئے گئے تو انہوں نے وہاں رہائشی مکان، مسجد، خانقاہ اور کتب خانہ سب کو جلا ہوا پا یا ، بہت ساراقیمتی اور تاریخی سرمایہ ضایع ہو گیا ان جلے ہوئے سامان میں سے بانئی خانقاہ حضرت خواجہ عماد الدین قلندر رحمتہ اللہ علیہ کا ایک خرقہ اور ایک رومال ادھ جلا ہو ا لے کر واپس آئے۔ دو چار کتابیں جو جلنے سے رہ گئیں تھیں وہ بھی راکھ کے ڈھیر میں سے چن کر لائے یہ سب ابھی بھی خانقاہ عمادیہ میں موجود ہے۔

چنددن خواجہ عنبر صاحب کے مکان پر رہنے کے بعد میر اشرف کے مقبر ے میں منتقل ہو گئے ۔ ان دونوں باپ بیٹوں پر اپنے آبائی وطن کے چھوٹنے کا اتنا اثر ہوا کہ حضرت طپاںؔ سخت علیل ہوئے اور تین ہی سال کے اندر ۴؍شعبان المعظم ۱۲۳۳ھ کو ان کا وصال ہو گیا ۔ صرف چند ماہ بعد ہی ۱۶؍ دیقعدہ ۱۲۳۴ھ کو حضرت ظہور ؔ وصال فرما گئے۔ یہ سجادۂ عمادیہ پر تیسرے سجادہ نشیں تھے۔ ان کی شخصیت اولاد تاج العارفین میں بڑی نمایاں اور قابل فخر رہی ہے۔ اس خانوادہ میں ان سے زیادہ با صلاحیت ، علمی وقار کا حاکامل ، کثیر التصانیف، متبع شریعت ، ماہر علوم عقلیہ اور نقلیہ او رعالم رموزات تصوف کوئی دسرا نظر نہیں آتا ہے ۔ روحانیت میں اپنے کمال کو پہنچے ہوئے اور ولایت میں مقام غوثیت پر فائز تھے ۔ کہا جاتا ہے کی آپ کی سو سے زائد تصانف تھی مگر حوادثات زمانہ سے کافی کچھ ضایع ہو گئیں ، ابھی بھی آپ کی ۳۷ تصنیفات و تالیفات کتب خانہ عمادیہ میں موجود ہے۔ آپ کی تصانیف کی نقول ہند اور بیرون ہند کی بیشتر بڑی لائبریروں میں موجود ہیں۔

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمتہ نے آپ کو علمی استعداد کی بنا پر سند حدیث بھیجی تھی ۔ حضرت شاہ ظہوالحق علیہ الرحمتہ و الرضوان حافظ قرآن کے ساتھ ساتھ حافظ صحیحین (بخاری و مسلم) اور حافظ حصن حصین بھی تھے صحیحین کی تمام حدیث مع اسنادحفظ تھیں۔ ان کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے حضرت شاہ نصیر الحق علیہ الرحمتہ سجادۂ عمادیہ پر بٹھائے گئے ۔ بڑے عابد و زاہد اور پرہیزگار تھے۔ انہوں نے بھی کتابیں تصنیف کی ہیں ان کی تصنیفات کتب کانہ عمادیہ میں موجود ہیں ۔ ان کا وصال ۱۲۶۰ھ میں ہو گیا۔ انہیں کوئی اولاد نرینہ نہ تھی اس لیے ان کے بعد ان کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا حافظ شاہ علی امیر الحق علیہ الرحمتہ سجادۂ عمادیہ پر بٹھائے گئے ۔ آپ الہٰ آباد (اتر پردیش) میں کوتوال شہر تھے ، اسے ترک کر کے خانقاہ عمادیہ کی سجادہ نشینی اپنے برادر بزرگ کی خواہش پر قبول فرمائی۔ بڑی کابل سخصیت تھی، ان کے زمانہ میں خانقاہ عمادیہ کی دنیوی ترقی بھی خوب ہوئی خانقاہ کی موجودہ عمارت انہیں کی کاوشوں سے تعمیر ہوئی زمینیں خرید تے گئے اور پھر عمارت بنواتے گئے ۔ اہم بات یہ ہے کے خانقاہ عمادیہ کی مکمل عمارت مجلس خانہ ، خلوت شریف، رہائشی مکان (جو تقریباً ڈیڑھ بگھہ سے زیادہ میں بنا ہوا ہے) سب کچھ انہوں نے خود اپنی نگرانی میں تعمیر ہی نہیں کروایا بلکہ اس دومنزلہ مکان اور مجلس خانہ اور مسجد کا مکمل نقشہ بھی خود ہی بنایا اور اسی نقشے پر کل تعمیرات اپنی موجودگی میں تقریباً ڈھائی سال کے عرصے میں مکمل کروائی۔ رہائشی مکان کی اپر ی منزل ۱۹۳۴ء کے زلزلہ میں منہدم ہوگئی۔

مسجد کی محراب میں خوبصورت نقاشی جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے وہ بھی حضرت شاہ علی امیر الحق رحمتہ اللہ علیہ کی اپنی تخلیق ہے ، ہجرۂ موئے مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی سرخی سے بنائی ہوئی نقاشی کا ڈیزائن خود ان کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ تعمیر ات کاانہیں بہت شوق تھا اور فن معماری سے خوب واقفیت تھی۔ خانقاہ عمادیہ کی قدیم عمارت ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ جیسے کسی ماہر نقشہ نویس اور فن تعمیرات کے ماہر کی نگرانی میں عمارت تعمیر ہوئی ہے ۔ آپ کے حافظہ کا یہ عالم تھا کہ صرف انتیس دنوں میں قرآن شریف حفظ فرمالیا ۔ طویل عمر پاکر حضرت شاہ علی امیر الحق علیہ رحمتہ ۱۵؍محرم الحرام ۱۳۰۲ھ میں وصال فرما گئے۔ان کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت شاہ رشیدالحق عمادی علیہ رحمتہ مسند عمادیہ پر بٹھائے گئے۔

حضرت شاہ رشید الحق علیہ رحمتہ بڑے وجیہ ، با رعب، اور قدآور شخصیت کے مالک تھے ۔ انہیں بزرگوں کی بارگاہ کی زیارت کا بہت شوق تھا، آپ حج بیت اللہ کو تشریف لے گئے تو ایران و عراق اور حجاز کی دیگر زیارت گاہوں پر بھی حاضری دی اور تقریباً دو سال کے بعد واپس لوٹے ۔ آپ عابد شب زندہ دار تھے اور مقام قطبیت پر فائز تھے ۔ علوم قرآنیات میں ماہر تھے۔ آپ نے قرآن مجید کی جستہ جستہ تفسیر بھی لکھی ہے، جو غیر مطبوعہ ہے اس کا غیر مرتب نسخہ کتب جانہ عمادیہ میں موجود ہے۔ اپنے سفر کے دوران کے مکمل حالات قلمبند کئے ہین اور اس سفر نامہ کا نام "رحلتہ الرشید الیٰ مقامات السعید" ہے یہ کتب خانہ عمادیہ میں محفوظ ہے۔ آپ کا وصال ۱۳۳۹ھ میں ہوا۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا سید شاہ حبیب الحق عمادی علیہ الرحمتہ خانقاہ عمادیہ کے ساتویں سجادہ نشیں کی حیثیت سے مسند عمادیہ پر بٹھائے گئے۔ آپ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خوش نویس بھی تھے آپ کی تحریر کردہ کتابیں خوش نویسی کی عمدہ نمونہ ہےَ بڑے اچھے مقرر اور مناظر تھے۔ آریہ سماجیوں سے مناظر ے میں اکثر شریک رہے۔ شہر میں کئی جگہ تفسیر قرآن سناتے تفاسیر کا بہت گہرا مطالعہ تھا۔ ہفتہ میں ایک دن خانقاہ عمادیہ میں بھی درس تفسیر عام لوگوں کے لیے دیتے اور ایک دن مثنوی مولانا روم کا درس دیتے۔ اس کے علاوہ طلبا ء جو دینی تعلیم حاصل کرنے آتے وہ سلسلہ تعلیم جو حضرت خواجہ عمادالدین قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے شروع فرمایا تھا اسے بھی قائم کئے ہوئے تھے ، اگر چہ ۱۹۳۴ء کے زلزلہ کے بعد رہائشی کمروں کی کمی ہو گئی، مگر آپ نے اس سلسلۂدرس و تدریس کو ختم نہیں کیا۔ ستمبر ۱۹۴۲ء؍رمضان المبارک ۱۳۶۱ھ میں آپ کا وصال ہوگیا۔ آپ کے بعد آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا سید شاہ صبیح الحق عمادی علیہ رحمتہ مسند عمادیہ پر بٹھائے گئے اس طرح یہ حضرت خواجہ عمادالدین قلندر علیہ رحمتہ کے اٹھویں سجادہ نشیں اور تاج العارفین پیر مجیب اللہ رحمتہ علیہ کی اولاد میں ساتویں پشت میں ہوئے۔ مولانا آزاد سبحانی سے تعلیم حاصل کی تھی روحانی تعلیم و تربیت اپنے دادا حضرت سید شاہ رشید الحق عمادی اور والد سے حاصل ہوئی۔ بہترین مقرر کے ساتھ ساتھ اچھے مضمون نگار بھی تھے آپ کے مقالے اکثر آل انڈیا ریڈیو ، پٹنہ سے نشر ہوتے رہتے ہیں۔ رسائل اور اخبارات میں بھی آپ کے مضامیں شائع ہوئے ہیں۔ حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین یحییٰ منیری قدس سرہ ٗکی سوانح حیات "ذکر الشرف" کے نام سے تصنیف کی۔ آپ اچھے شاعر اور خوش گلو بھی تھے ۔ تفسیر قرآن کا جو سلسلہ آپ کے والد نے شروع کیا تھا اور جہاں جہاں تفسیر قرآن ختم نہ ہو پائی تھی اسے آپ نے والد کے وصال کے بعد مکمل کیا۔ خانقاہ عمادیہ میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھا، ہر اتوار کو بعد نماز عشاء مثنوی مولانا روم کا درس بھی دیا کرتے تھے۔ اور بڑی پر معرفت تشریح فرماتے ۔ دعا بھی بہت رقت آمیز مانگتے خصوصاً شب برات میں فجر کے بعد کی دعا، رمضان المبارک میں جمعتہ الوداع کی دعا بڑی رقت آمیز ہوتی سخت سے سخت دل انسان روپڑتا ۔ کہا جاتا ہے کی ان کے والد اور دادا حضور بھی ایسی ہی دعا فرماتے تھے کہ ہزاروں کا مجمع زار و قطار روپڑتا۔ نویں محرم الحرام کو ذکر شہدائے کربلا کچھ اس انداز میں بیان فرماتے کی مجمع پر رقت کا عالم ہوتا تھا پتھر دل انسان کی آنکھیں بھی بھیگ جاتی تھیں۔

حضرت صبیح الحق رحمتہ اللہ علیہ ۲۴ محرم ۱۳۹۵ھ مطابق ۷ فروری ۱۹۷۵ء بروز جمعہ ڈیڑھ بجے دن کو وصال فرما گئے تو ان کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا سید شاہ فرید الحق عمادی رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشیں بنائے گئے۔ ان کے زمانۂ سجادگی میں خانقاہ نے بہت شہرت پائی، سلسلہ عمادیہ کو بہت فروغ ہوا، بیرون ہند بھی ان کے مریدوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ حضرت فرید علیہ الرحمتہ زبردست تعمیری ذہن رکھتے تھے۔ انتہائی باالخلاص، بلند ہمت، باحوصلہ، حق پسند، حق شناس، حق گو ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت طریقت کا پاس و لحاظ اپنے ہر فعل میں رکھتے تھے۔ اصلاح معاشرہ اور مسلم عوام کی مذہبی تعلیم سے دوری کے رحجان کا اندازہ لگا تے ہوئے آپ نے خواجہ عماد الدین قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے مدرسہ کو جو تقریباً ۲۴ سال سے بند تھا اس کی نشاۃ ثانیہ "مدرسہ عمادالعلوم" کے نام سے کی ، اب اس کا نام "مرکزی دار العلوم عمادیہ" ہے جو بہار کے نمائندہ مدرسہ کی حیشیت رکھتا ہے۔ خانقاہ اور اس سے ملحق جتنی عمارتیں خستہ ہوتی جا رہی تھیں ان کے مرمت اک زمانہ سے باقاعدہ نہیں ہو پائی تھی۔ اگر کہیں ہلکی مرمت سے کام نہ چلتا تو تعمیر جدید کروادیتے۔ سجادہ نشیں ہوتے ہی سب سے پہلے مسجد کی توسیع کی، پھر آپ نے فرمایا کی والد گرامی حضرت دادا حضور کی خواہش تھی کی حجرۂ موئے مبارک رسول اکرم ﷺ پر ایک گنبد ہو۔لہٰذا گنبد کی تعمیر میں لگ گئے اور گنبدے خضرا کی تصویر رکھ کر تقریباً اسی نقشے کا گنبد تعمیر کروایا اور اندرون گنبد چینی مٹی کے ٹکڑوں سے نقش و نگار بنوایا۔ مسجد کی قدیم نقاشی خستہ ہو گئی تھی اس میں جو بہت کمزور تھی اسے ہٹاکر خوبصورت نقش و نگار بنوائے اور تقریباً اگیارہ مہینے میں یہ نقاشی مکمل ہوئی۔ وہ کتب خانہ جو حضرت خواجہ عمادالدین قلندر رحمتہ اللہ علیہ کو ان کے والد نے عطا فرمایا تھا اس کی عمارت انتہائی خستہ ہو چکی تھی آپ نے کتب خانہ کے ایک بہت وسیع ہال بنوایا، الماریوں کی مرمت کروائی پہلے لکڑی کی صرف پندرہ الماریاں تھی آپ نے لوہے کی آٹھ الماریوں کا اضافہ کیا۔ مطبوعات کے اضافے کیے۔ دور سجادگی سے پہلے نشر و اشاعت کا ایک ادارہ اپنے پر دادا شاہ رشید الحق علیہ رحمتہ کے نام پر "ادارہ رشیدیہ"قائم کیا اور خود اپنی تصانیف اس کے زیر اہتمام چھپواتے رہے۔ خدمت خلق کا جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا۔ ہر فلاحی کام میں خانقاہ کی طرف سے نمائندگی کرتے ۔ ۱۷؍مارچ ۲۰۰۱ء کو وصال فرمایا اس کے بعد آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا سید شاہ مصباح الحق عمادی مد ظلہٗ العالی کی سجادہ نشینی عمل میں آئی ۔شاہ مصباح الحق ہندستان کی مایہ ناز لائبریری "خدا بخش اور ینٹل پبلک لائبریری" پٹنہ میں ملازمت کر رہے تھے، یہ عالم و فاضل نظامیہ اور پٹنہ یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے ہونے کے ساتھ کمپیوٹر پروگرامنگ کا مکمل کورس بھی کیا اور اس شعبہ میں اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شعر و ادب کا شوق بھی ہے۔ آپ کے مقالے رسائل میں چھپتے رہتے ہیں۔ بہترین مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ تفسیر و حدیث کی جانکاری اور رموز طریقت و اسرار تصوف کی اچھی واقفیت بھی رکھتے ہیں ۔ اللہ تبارک تعالیٰ ان کے ذریعے خانقاہ عمادیہ کو ترقی عطا فرمائے، بزرگان عمادیہ کے مشن کو آگے بڑھاتے رہیں اور سلسلہ عمادیہ کے وابستگان ان کے واسطے سے فیوض عمادیت سے مستفیض ہوتے رہیں۔

ریسنٹ اپڈیٹس


رابطہ

خانقاہ عمادیہ قلندریہ منگل تالاب پٹنہ سٹی ، بہار ، انڈیا

فون وای میل

Mobile: +91-9431-648601

sajjada@khanquahemadia.org
khanqahemadia@gmail.com